خواب سے حقیقت تک

 کل ہم نے بند آنکھوں سے دیکھنے والے خوابوں کی بات کی تھی 

 

جو آپ اس لنک سے پڑھ سکتے ہیں 

https://dreams-a-personal-secret.blogspot.com/2025/09/blog-post.html


اور آج ہم کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خوابوں کی بات کریں گے 


چلیں شروع کرتے ہیں

اگر خواب دیکھنے والے اور اس کی بنیاد رکھنے والے نہ رہیں

تو کون لوگ ہوں گے جو اُسے آگے لے کر چلیں گے

پہلے ہم اِس سسٹم کو سمجھتے ہیں
ہر مخلوق ایک دوسرے پر منحصر ہے

پیڑ پودے، چرند پرند، ہوا، بارش، چاند، ستارے، سورج ہر چیز ایک دوسرے پر منحصر ہے یعنی لین دین چل رہا ہے؛ کوئی ایک چیز لیتا ہے تو دوسری چیز دیتا ہے۔ اللہ کی ہر مخلوق اسی سسٹم میں کام کرتی ہے۔

اور یہی سسٹم ہے اللہ کی بنائی ہوئی اشرف مخلوق کا انسان

انسان بھی اسی طرح کام کرتے ہیں: ایک چیز لیتے ہیں تو دوسری دیتے ہیں، لیکن یہاں ایک twist ہے

جو اشرف چیز ہوتی ہے یعنی اُس کو زیادہ priority ملی ہے تو اس کی responsibility بھی زیادہ ہوتی ہے

جیسے مٹی اللہ نے مٹی کو پوری ارض کی base بنا دیا

زمین کے اندر سے سب نکلتا ہے: معدنیات، ذخائر، آئل، گیس، قدرت کی تقریباً ہر چیز۔۔۔

اُسے زیادہ دیا گیا ہے تو اُس کی بھی دینے کی زیادہ responsibility ہے۔ تو اس کے عوض اُسے کیا ملا؟

اُسے اللہ تعالیٰ نے دینے کے سبب اپنی پیاری مخلوق, اپنی اشرف مخلوق اس سے بنا دی....

اُسے اُس کے دینے کے انعام میں اللہ تعالیٰ نے اُسے وہ شرف بخشا جو اُسے مخلوقات میں افضل کر گیا....

اب کیونکہ انسان اس افضل مخلوق سے بنا ہے تو اس کی صفت بھی اُس میں ہے دینے کی اور سب کو آپس میں بھاندے رکھنے کی....

زمین کیسے بھاندھتی ہے سب کو آپس میں؟
دے کر۔۔۔
جو دیتا ہے اس کے ساتھ سب جڑ جاتے ہیں۔۔۔

اب ایسا نہیں ہے سب زمین کے پاس ہے، اُس کو کیسی چیز کی ضرورت نہیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے

اُسے بھی ضرورت ہوتی ہے: پانی، روشنی، ہوا کی۔ تب ہی وہ proper کام کر سکے گی، اُسے بھی جڑے رہنے کے لیے منحصر ہونا پڑتا ہے

اسی طرح خواب دیکھنے والا, اُس کی بنیاد رکھنے والا اور پھر اُس پر کام کرنے والوں کو بھی جڑے رہنے کی ضرورت ہے

کسی نے خواب دیکھا، کسی نے اُس کی بنیاد رکھی اور پھر

کچھ لوگوں نے جدوجہد کی اور پایا تکمیل تک پہنچا دیا اور کچھ لوگوں نے اُسے برقرار رکھا

کوئی بھی کام خواب دیکھنے سے لے کر برقرار رکھنے تک منحصر ہونا اور منحصر کرنا پڑتا ہے۔ جسم کا نظام بھی ایسا ہی ہے، دنیا کا بھی، اور قوموں کا بھی

ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

صحیح بخاری : 2446


written by: insha zulfiqar

instagram:


Comments